17 اپریل 2010 - 19:30

سوئٹزر لینڈ میں میناروں پر پابندی کے سب سے بڑے حامی معروف سیاست دان ڈینئل اسٹریچ نے اسلام قبول کر لیا ۔اس کے قبول اسلام کے اعلان نے جہاں سوئٹزر لینڈ کی سیاست میں تھر تھلی مچادی وہیں ان لوگوں کے پیروں سے زمین کھسکتی نطر آرہی ہے جو میناروں کی مخالفت میں آگے آگے تھے۔

اہل البیت (ع) خبر ايجنسي ـ ابنا ـ كي رپورٹ کے مطابق سوئس پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ڈینئل اسٹریچ ہی پہلا شخص تھا جس نے سوئٹزر لینڈ میں مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی کی مہم شروع کی تھی ۔اور مسلم مخالف تحریک کو ملک بھر میں پھیلایا تھا، اسلام کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارے اور میناروں کے خلاف راۓ عامہ ہموار کی ۔اسلام کا تنقیدی مطالعہ کرتے ہوۓ وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اور یورپ کی سب سے خوبصورت مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ڈینئل اسٹریچ کا کہنا ہے کہ اب وہ قرآن مجید باقاعدگی سے پڑھتا ہے اور نمازیں ادا کرتا ہے۔اسلام میں مجھے زندگی کے بارے میں ان تمام سوالوں کا جواب مل گیا جو عیسائیت میں کبھی  بھی نہیں پا سکتا تھا۔ڈینئل اسٹریچ کا کہنا ہے کہ اسلام کی عظمت کے لۓ میناروں اور گنبدوں کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ملک کا قانون میناروں پر ہی پابندی لگا سکتا  ہے دل و دماغ پر نہیں۔ڈینئل اسٹریچ  دنیا کی سب سے خوبصورت مسجد تعمیر کرکے اپنے گناہوں کی تلافی کرنا چاہتے ہیں اور مینار مخالف تحریک کے خلاف بھی مہم چلانا چاہتے ہیں۔
مسلمانوں کی ایک غیر سرکاری تنظیم او آئی پی کے سربراہ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے کچھ تو جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام اور دہشت گردی میں کیا تعلق ہے اور جب وہ اس پر تحقیق کرتے ہیں تو اسلام کے عظیم اصولوں سے روشناس ہوتے ہیں اور ڈینئل اسٹریچ  کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، اور اس نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اسلام کی عظمت کا برملا اظہار بھی کیا۔

 /152